Breaking News

ضلعی انتظامیہ کیطرف سے عوامی فلاح وبہبود کا ایک اور منصوبہ تیار:سرگودھا اربن ٹرانسپورٹ کے 6 روٹس کی منظوری دیدی گئی



Sargodha: 6 roots have been approved for sargodha urban transport by district government sargodha -سرگودھا ضلعی انتظامیہ نے سرگودھا اربن ٹرانسپورٹ کے 6 نئے روٹس کی منظوری دے دی
سرگودہا (عاطف فاروق ڈاٹ کام)سرگودہااربن ٹرانسپورٹ کے چھ روٹس اور ویلفےئر سوسائٹی کی باضابطہ منظوری دے دی گئی ہے ۔ جس کاافتتاح 27فروری کو ہو گا اربن ٹرانسپور کیلئے پرانی پٹھہ منڈی ٹرمینل تعمیر کیلئے دو ہفتے کی ڈیڈ لائن دے دی گئی ہے ۔جہاں پر مسافروں کے بیٹھنے اور گاڑیوں کے کھڑے کرنے کیلئے
سٹینڈ اور شیڈ کے علاوہ واش روم اور دیگر سہولیات مہیا کی جارہی ہیں۔ اس امر کا انکشاف ڈپٹی کمشنر سرگودہا لیاقت علی چٹھہ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے اجلاس میں کیا گیا ۔ اجلاس میں سیکرٹری ڈی آرٹی اے فاروق حیدر عزیز ‘ ملک خضرحیات اعوان ‘ محمد عرفان بٹ ‘ راجہ محمد یعقوب جنجوعہ ‘ رانا شاہد عمران اور شفیق الرحمان نیازی کے علاوہ محمد غوث ‘ ٹریفک انسپکٹر محمد کاشف اور ایکسین بلڈنگ کے علاوہ دیگر ٹرانسپورٹرز نے شرکت کی۔ اجلاس کو بتایاگیاکہ اربن ٹرانسپورٹ کیلئے چھ روٹس پر100گاڑیاں چلانے کا پلان تیار کیاگیاہے ۔ اس کیلئے جھال چکیاں سے 49 ٹیل تک مختلف سٹاپ کیلئے کرایہ نامہ مقرر کیا جارہاہے ۔پہلے پانچ سٹاپ کیلئے کم از کم کرایہ دس روپے او رباقی سٹاپ کیلئے زیادہ سے زیادہ کرایہ بیس روپے ہو گا ۔ شروع میں اربن ٹرانسپورٹ کیلئے گاڑیاں دینے والے ٹرانسپورز کو فری روٹس کی منظوری دی جائیگی بعد ازاں نئے روٹس لینے والے ٹرانسپورٹرز کیلئے فیس کا تعین کیاجائیگا ۔ ڈپٹی کمشنر نے کہاکہ اربن ٹرانسپورٹ کیلئے ٹرانسپورٹرز کو انتظامیہ اور ٹریفک پولیس کی سرپرستی او رتعاون حاصل ہوگا او ران روٹس پر دیگر کمرشل گاڑیوں اور چنک چی رکشہ پر پابندی ہو گی ۔انہوں نے کہاکہ یہ عوامی بہبود کا منصوبہ ہے ۔ گاڑیوں کی کنڈیشن اچھی ہونی چاہیے۔سیکورٹی کیلئے فول پرو ف انتظامات کئے جائیں گے ۔
اس خبر کی مکمل تفصیل کیلئے یہاں کلک کریں۔
بعدازاں ڈپٹی کمشنر نے جنرل بس سٹینڈ کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا ۔اجلاس کو بتایاگیاکہ ویٹنگ ایریا کا 90فیصد کام مکمل ہوچکاہے ۔ جس پر ڈیڑھ کروڑ روپے کے اخراجات ہو رہے ہیں۔ اسی طرح جنرل بس سٹینڈ میں 36 ٹائلٹ تعمیر ہو رہے ہیں جن میں سے پندرہ ٹائلٹ پر مشتمل بلاک کی تعمیر کا کام مکمل ہو چکاہے جبکہ پندرہ مزید ٹائلٹ کا 60فیصد کام مکمل کر لیاگیاہے ۔ اسی طرح داخلی او رخارجی گیٹ پر کام شروع ہے جبکہ بجلی کے پول اور ایل ای ڈی لائٹس کی تنصیب پر 60فیصد کام مکمل ہو چکاہے ۔اسی طرح چار کروڑ روپے سے زائد اخراجات سے روڈ کی تعمیر کا پارٹ اے مکمل ہو چکاہے جبکہ پارٹ بی کا95فیصدکام مکمل ہو چکاہے جس پر پانچ کروڑ روپے کے اخراجات ہو رہے ہیں۔ اسی طرح ایک کروڑ 98لاکھ روپے کی لاگت سے سیوریج کا 95فیصد کام اور 54لاکھ 70ہزار روپے کی لاگت سے ڈسپوزل ورکس کا چالیس فیصد جبکہ ایک کروڑ 21لاکھ روپے کی لاگت سے واٹر سپلائی کا 70 فیصد کام مکمل کر لیاگیاہے ۔ اجلاس میں ویٹنگ ہال او ردفتر کے علاوہ لان کے لئے ترمیمی بجٹ کی بھی منظوری دی گئی ۔ اجلاس میں یونیورسٹی روڈ پر ڈائیو سروس او ردیگر ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے روڈ پر کھڑا ہونے کے خلاف قانونی اقدامات اور نوری گیٹ پر دو ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے سٹینڈ کے خاتمہ کیلئے شوکاز نوٹس جاری کرنے اور بعد ازاں سٹینڈ کے لائسنس کینسل کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔
 مکمل مضمون پڑھنے کیلئے یہاں کلک کیجئے ۔