Breaking News

سرگودھا ڈویژن کے 1941دیہاتوں کی صفائی کیلئے ٹینڈر طلب کئے جارہے ہیں : کمشنر سرگودھا ندیم محبوب


chief minister punjab clean punjab program - سرگودھا ڈویژن کے 1941دیہاتوں کی صفائی کیلئے ٹینڈر طلب کئے جارہے ہیں : کمشنر سرگودھا ندیم محبوب
سرگودہا(عاطف فاروق ڈاٹ کام)کمشنر سرگودہا ڈویژن ندیم محبوب نے کہا ہے کہ خادم پنجاب صاف دیہات پروگرام کے تحت ڈویژن کی 327یونین کونسلوں کے 1941دیہاتوں کی صفائی اور کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کیلئے رجسٹررڈ فرموں سے
ٹینڈرز طلب کئے جارہے ہیں۔ جسمیں ابتدائی طو پر چھ ماہ کیلئے زمہ داریاں سونپی جائیں گی۔جبکہ ان کے کام کی تھرڈ پارٹی ایویو لیشن اور ای نظام کے زریعہ مانیٹرنگ کی جائے گی۔ اچھی کارکردگی دکھانے والی فرموں کے ٹھیکوں میں توسیع کر دی جائے گی۔ وہ آج خادم پنجاب صاف دیہات پروگرام کے دوسرے مشاورتی اجلاس کی صدارت کررہے تھے ۔اجلاس میں ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ چوہدری الیاس ،ایکسئین لوکل گورنمنٹ خالد حسینی ،متعلقہ اداروں کے افسران اور مختلف فرموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ کمشنر سرگودہا نے کہا کہ قیام پاکستان کے بعد مو جو دہ حکومت نے تاریخ میں پہلی بار دیہی علاقوں کی صفائی اور وہاں خوشگوار ماحول اور فضاء کیلئے ایک جامع پروگرام کا آغاز کیا ہے اور اسے بامقصد اور نتیجہ خیز بنانے کیلئے ادارے اور حکومت انتہائی چوکس ہے ۔ اس موقع پرایکسئین لوکل گورنمنٹ خالد حسینی نے پروگرام کے اہم خدو خال سے شرکاء کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت ڈویژن کے 1941دیہا توں کی صفائی پر 12 کروڑ دس لاکھ کی ابتدائی تخمینہ سازی کی گئی ہے۔ جس میں ٹھیکیدار کو دیہاتوں کی نالیوں کی بھل صفائی کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کیلئے لیبر اور نئی مشینری فراہم کرنا ہو گی۔ ہر یونین کونسل میں چھ سینٹری ورکر زکام کریں گے۔ ٹھیکیدار کوڑا کرکٹ کو ایڈمنسٹریشن کی طرف سے مخصوص کی گئی جگہوں پر ٹھکانے لگانے کا ذمہ دار ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پرگرام میں شامل دیہاتوں کی صفائی اور کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے جا رہا ہے تاکہ ٹھیکہ حاصل کرنے والی فرموں کو ان دیہہ کی مینجمنٹ میں آسانی فراہم کی جا سکے انہوں نے بتایا کہ فرمیں اپنی بولیاں متعلقہ ڈپٹی کمشنروں کو جمع کروائیں اور یہ عمل 20دسمبر تک مکمل کر لیا جائے گا۔ جبکہ یکم جنوری 2018سے ان یونین کونسلوں کی صفائی ستھرائی کا کام ٹھیکہ حاصل کرنے والی فرموں کو سونپ دیا جائے گا۔ اجلاس میں فرموں کے نمائندو ں نے اپنی تجاویز پیش کیں اور بولیوں کے ضمن میں پائے جانے والے اپنے شکوک و شبہات کے بارے میں وضاحت حاصل کی۔