Breaking News

بھارتی ریاست گجرات سے سائنسدانوں کو سولہ کروڑ سال قدیم ڈائنوسار کا ڈھانچہ مل گیا


بھارتی ریاست گجرات سے سائنسدانوں کو سولہ کروڑ سال قدیم ڈائنوسار کا ڈھانچہ مل گیا
نئی دلی (ہفتہ : 28 اکتوبر 2017 ء ) بھارتی ریاست گجرات کے صحرائے ’کچھ‘ میں سائنسدانوں کی ایک ٹیم کو تقریباً 16 کروڑ سال قدیم ڈائنوسار کا ڈھانچہ مل گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ بھارت میں قدیم ترین دور کے ڈائنوسار ’اچتھائیوسار‘ کا مکمل
فوسل دریافت ہوا ہے۔ سولہ کروڑ سال قبل کرہ ارض پر پایا جانے والا یہ جانور خشکی کے ساتھ پانی میں بھی رہ سکتا تھا۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی کرنے والے سائنسدان پروفیسر گنتو پالی پرساد کا کہنا تھا کہ دریافت ہونے والے فوسل کی لمبائی تقریباً ساڑھے 5 میٹر ہے اور یہ تقریباً مکمل ہے کیونکہ صرف اس کی کھوپڑی اور دم کی کچھ ہڈیاں غائب ہیں۔ اس فوسل کی دریافت گجرات کے گا?ں لودائی کے جنوب میں واقع پہاڑوں میں ہوئی۔ اس اہم دریافت کا سہرا بھارت اور جرمنی کے سائنسدانوں کی ایک مشترکہ ٹیم کے سر ہے۔اس ضمن میں ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس دریافت نے ایک اور تحقیق کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ ’اچتھائیوسار‘ نسل کے ڈائنو سار کی باقیات اس علاقے سے ملنے پر یہ سوال بھی کھڑ اہو گیا ہے کہ قدیم دور میں یہاں خشکی کی بجائے سمندر تو نہیں تھا۔ نئی تحقیق کے دوران اس نظریے کا جائزہ لیا جائے گا کہ کروڑوں سال قبل بھارت اور جنوبی امریکہ کا درمیانی تمام حصہ سمندر پر مشتمل تھا۔
بھارتی ریاست گجرات سے سائنسدانوں کو سولہ کروڑ سال قدیم ڈائنوسار کا ڈھانچہ مل گیا


بھارتی ریاست گجرات سے سائنسدانوں کو سولہ کروڑ سال قدیم ڈائنوسار کا ڈھانچہ مل گیا